ماڈرن عورت
اس کی جدائی کی تڑپ نے مجھے آوارہ بنا دیا تھا۔ میں بہت زیادہ نشہ کرنے لگا تھا۔ میرے گھر والوں نے اور میرے دوستوں نے مجھے بہت زیادہ سمجھایا۔ انہوں نے مجھے کہا کہ پلیز یار، یہ نشہ کرنا چھوڑ دو، اس میں کچھ بھی نہیں رکھا۔ کیوں تم اپنی زندگی برباد کر رہے ہو؟ لیکن میں ضد کا بہت پکا تھا اور میں کسی کی بھی نہیں سنتا تھا۔
میرے محلے کے لوگ مجھے نشئی کہنے لگے تھے، لیکن مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ کوئی میرے بارے میں کیا سوچتا ہے۔ حقیقت تو یہ تھی کہ میں کبھی ہوش میں آنا ہی نہیں چاہتا تھا۔
پھر ایک دن مجھے اس کی کال آئی۔ وہ مجھے کہنے لگی کہ مجھے تم سے ملنا ہے، کیا تم مجھ سے ملنے آ سکتے ہو؟ مجھے تو اسے دیکھے ہوئے ایک عرصہ ہو گیا تھا۔ جب میں نے اس کے منہ سے ملاقات کا سنا تو میری جان میں جیسے جان آ گئی ہو۔ اور پھر میں اس سے ملنے چلا گیا۔
میں ایک ریسٹورنٹ کے باہر پارکنگ میں اپنی موٹر سائیکل کھڑی کر رہا تھا کہ اتنے میں میرے پاس ایک گاڑی آ کر رکی۔ اس گاڑی میں سے ایک بہت خوبصورت اور ماڈرن عورت باہر نکل کر میری طرف آنے لگی۔ جب میں نے اسے غور سے دیکھا تو پہچانا کہ یہ تو وہی عورت ہے جس سے میں بے حد پیار کرتا ہوں۔
پھر ہم دونوں ریسٹورنٹ میں جا کر بیٹھ گئے۔ وہ بہت زیادہ خوش نظر آ رہی تھی۔ پھر وہ مجھے کہنے لگی کہ دیکھو، میں اپنے گھر میں بہت زیادہ خوش ہوں۔ میرا شوہر مجھ سے بہت زیادہ پیار کرتا ہے۔ میرے اب تو بچے بھی ہو چکے ہیں۔ ہمارا ملنا قسمت میں نہیں لکھا تھا۔
میں بھی شروع شروع میں تمہیں یاد کر کے روتی رہتی تھی، لیکن پھر وقت کے ساتھ ساتھ سب بدل گیا۔ مجھے دنیا داری کی سمجھ آنے لگی، اور دیکھو اب تو تم مجھے یاد بھی نہیں آتے۔ میں قسم کھا کر کہتی ہوں کہ میں اب تم سے پیار نہیں کرتی۔ میں اپنے شوہر سے اور اپنے بچوں سے بہت زیادہ پیار کرتی ہوں۔
لیکن جب میں تمہارے بارے میں سنتی ہوں تو مجھے بہت دکھ ہوتا ہے کہ تم میرے پیچھے اپنی زندگی خراب کر رہے ہو۔ اس عورت کے پیچھے اپنی زندگی برباد کر رہے ہو جو تمہاری کبھی ہو ہی نہیں سکتی۔ میں تمہاری منت کرتی ہوں کہ پلیز، اب مجھے بھول جاؤ اور یہ مجنوں بن کر رہنا چھوڑ دو۔ کوئی اچھی سی لڑکی دیکھ کر شادی کر لو، تم دیکھنا کہ ایک دن سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔
میں تمہارے لیے بہت دعا کروں گی۔ اور پھر وہ کہنے لگی کہ اچھا، اب میں چلتی ہوں، مجھے اپنے شوہر کو آفس سے لینا ہے۔ اللہ حافظ، اپنا بہت زیادہ خیال رکھنا۔
میں چپ چاپ بس اسے جاتا ہوا دیکھ رہا تھا۔ اس کے کپڑے، اس کا بات کرنے کا انداز، اور وہ سب کچھ بدل چکا تھا۔ وہ اب وہ تھی ہی نہیں جس سے میں پیار کرتا تھا۔
اس سے ملاقات کرنے کے بعد میں اپنی زندگی میں بالکل نارمل ہو گیا۔ آج میں نے سارے کے سارے نشے چھوڑ دیے ہیں۔ بس ایک چیز نہیں چھوڑ سکتا، تو وہ ہے میری یک طرفہ محبت۔
اب مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بس زندگی میں اسے ایک ہی دعا دوں گا کہ وہ ہمیشہ اپنے بچوں کے ساتھ، اپنے خاوند کے ساتھ خوش رہے۔
اللہ حافظ۔

